بلوچ نیشنل موومنٹ کے قائمقام صدر عصا ظفر کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ
کوئٹہ ( پ ر )بلوچ نیشنل موومنٹ کے قائمقام صدر عصا ظفر کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ بی این ایم کے شہید قائد غلام محمد اور
سانحہ مرگاپ میں شہید ہونے والے ان کے دیگر شہید ساتھیوں شہید شیر محمد اور شہید لالہ منیر کا یوم شہادت بلوچستان بھر میں قومی جذبہ آزادی سے
منایا جائے۔ شہد اء کے آبائی علاقوں پنجگور میں 3 اپریل اور مند میں 9 اپریل کو بی این ایم کی طر ف سے جلسہ عام کا انعقاد کیا جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ شہید غلام محمدنے اپنے بہادرانہ رویے سے قوم کے فرزندوں کو سرمچار بننے کا حوصلہ دیا قوم انہیں کبھی فراموش نہیں کرئے گی ۔سانحہ مرگاپ
گہر ازخم ہے اس دن دشمن نے قوم کے تین عظیم فرزند شہید غلام محمد ‘ شہید لالہ منیر اورشہید شیر محمد کو جسمانی طور پر ہم سے جد اکردیا۔یوم شہادت
کی تقریباتچند علاقوں تک محدود نہیں ہونی چاہئیں۔ جھدکار اس عظیم سانحےکوبلوچستان بھر میں قومی جذبہ آزادی سے یا د کر کے اس زخم کو کرید کر
تازہ کریں تاکہ آزادی کی تڑپ میں اضافہ ہو ۔جس دشمن نے ہما رے عظیم قائدین کو اغواء کے بعد شہید کر کے ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی اس کی
غلامی میں ایک لمحہ بھی قبول نہیں۔شہد اء کی شہادت قوم کے فرزندوں پر قرض ہیں اوریہ صرف آزادی حاصل کر کے ہی چکائے جاسکتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئٹہ ( پ ر ) بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی دفتر اطلاعات کی طرف سے انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی بلوچستان سے متعلق حقائق کمیشن کی رپورٹ مسترد کرتیہو ئے کہا گیاہے کہ رپورٹ پنجابی شاؤنسٹ ذہنیت کا عکاس ہے ۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے مقامی نمائندگان بھی کمیشنکی رپورٹ سے متفق نہیں رپورٹ مسترد کر کے انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کرتے
ہیں کہ انسانی حقوق کمیشن بلوچستان چیپٹرکی علیحدہ تنظیم قائم کی جائے ۔رپورٹ بلوچ حریت پسندو ں کے خلاف الزامات کا پلندہ ہے رپور ٹ کے ذرائع
بتائے جائیں ماضی میں انسانی حقوق کمیشن کے بلوچستان کے کوآرڈینیٹرز کے بیانات سے کمیشن کی رپورٹ مختلف ہے لگتا ہے کہ رپورٹ پاکستانی ایجنسیوں کی تیارکردہ ہے ۔ بیان میں انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی طرف سے گزشتہ دنوں اخبارات کوجاری کردہ اس رپورٹ پرسخت تنقید کی گئی ہے جس میں بلوچ آزادی پسندوں پر الزام عائد کیا گیاہے کہ وہ آباکاروں کو قتل کر رہے ہیں ‘ معدنی کانوں سے بھتہ وصول کرتے ہیں اور اردو بولنے والے تاجروں کواغواء کرتے ہیں ۔بیان میں کہا گیاہے کہ سانحہ خضدار کے بعد توقع کی کررہے تھے کہ انسانی حقوق کمیشن سانحے کی مذمت کرکے تحقیقاتی کمیشن قائم کر ئے گی لیکن اس کے بر عکس بلوچوں تحریک کے خلاف بیان سامنے آیا ہے جو حیران کن اور افسو س ناک ہے۔بلوچستان میں آباد کا ررہائش نہیں رکھتے بلوچ ثقافت میں آباد کاروں کو بلوچ سر زمین اور بلوچ قوم کے مفادات سے وابستگی کے شرط پر بلوچ تسلیم کرنے کی روایت مستحکم ہے ۔جن کو بلوچ سر مچار نشانہ
بناتے ہیں انہیں آباد کار کہنا درست نہیں ۔ بلوچستان میں بسنے والے ہندو‘ اسماعیلی ‘ بنگال نژاد بلوچستان کے فرزند ہیں ۔ قوم دوست جماعتیں قومی
تحریک میں ان کے کردار سے مطمئن ہیں ۔ بلوچ ہندؤں کے اغواء میں پاکستانی ایجنسیوں کے آلہ کار ملوث ہیں جس کی تصدیق بلوچ ہند ؤ پنچائت اور انسانی حقوق کمیشن کے مقامی کوآرڈینیٹرز بھی کر چکے ہیں ۔ بلوچستان میں بلوچ سرمچاروں کی جوابی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے غیر بلوچ پنجابی فوج کےآلہ کار اور مخبر ہیں ۔انسانی حقوق کمیشن پنجابی فوج کی طر ف سے ہونےوالی نسل کشی پر خاموش جب کہ بلوچوں کے ساتھ جنگ میں مارے جانے والے بلوچ دشمنوں کو معصوم ثابت کر کے انسانی حقوق کے نام پر پنجابی قبضہ گیروں کے
حق میں پروپیگنڈہ کمیٹی کا کردار اداکررہی ہے جو قابل مذمت ہے۔
Link to this post